3 ستمبر 2011 - 19:30

شلمچہ سے موسوم میزائل اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع کی موجودگی میں فوج کے حوالے کر دیئےگئے۔

ابنا: شلمچہ ایران کا ایک سرحدی شہر ہے۔ زمین سے فضا میں مار کرنے والے اس میزائیل کو شلمچے سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں صدام کی فوجوں نے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران مغربی ملکوں کے دئیے ہوئے کیماوی بموں کا بے تحاشا استعمال کیا تھا اور اس علاقے میں ایرانی جوانوں نے اپنی سرزمین اور دین کے دفاع کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں، چنانچہ یہ نام ایرانی کی دفاعی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگیا ۔بتایا جاتا ہے کہ زمین سے فضا میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے شلمچہ میزائل کہ جن کی کامیاب تجربات کے بعد وسیع پیمانے پر تیاری شروع کر دی گئي ہے، آج ایرانی وزیر دفاع بریگيڈیئر جنرل احمد وحیدی کی موجودگي میں خاتم الانبیاء ایئر ڈیفنس کمانڈ کے حوالے کر دیے گئے۔ایرانی وزیر دفاع نے اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی وزارت دفاع کی فضائی اور خلائی صنعتوں کے ادارے کے ماہرین کی کوششوں سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے شلمچہ میزائیل کی وسیع پیمانے پر تیاری شروع کر دی گئي ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ میزائل جدید ترین ٹیکنالوجی کا حامل ہے اور اپنے ہدف کو درست نشانہ بنانے کے علاوہ الیکٹرونک جنگ کے مقابل مزاحمت کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل سابق شاہی حکومت علاقے کی دیگر پٹھو حکومتوں کی طرح امریکہ سے وابستہ تھی اور اس خطے میں اس کے پولیس مین کا کردار ادا کررہے تھی۔ تاہم اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جب ایران نے مغربی مفادات کی نگرانی اور امریکہ کی جی حضوری سے ہاتھ اٹھایا تو امریکہ سمیت اس کے سبھی اتحادی ایران کی نوخیز اسلامی حکومت کے خلاف ہوگئے۔ لہذا اس خطے میں موجود امریکہ نے اپنی دیگر پٹھواور وابستہ حکومتوں کو ایران کے اسلمی انقلاب سے نمٹنے کا مشن سونپا اور صدام جو اس وقت تک مشرقی بلاک کا نوکر سمجھا جاتا تھا امریکہ کا بے دام غلام بن گیا اور ایران پر ایک ناخواستہ جنگ مسلط کردی جو آٹھ برس تک جاری رھی۔اگرچہ اس جنگ میں ایران کو بہت زیادہ نقصان ہوا اور سینکڑوں خوبرو جوانوں کی قربانی دینی پڑی لیکن یہ صدمات اور جنگ اس بات کا باعث ہوئی کہ آج ایران ہر میدان میں اپنے پیروں پر کھڑا ہے اور سخت اقتصادی معاشی اور فوجی پابندیوں کے باوجود علاقے کی ایک بڑی طاقت بن گیا ہے ۔ دفاعی صنعت اور خصوصا میزائیل ٹیکنا لوجی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے جوانوں نے وہ کامیابی حاصل کرلی ہے کہ مغربی مملک بعض اوقات تو اسے مانے سے انکار تک کر ڈالتے ہیں اور لیکن کیا ان کے ان انکار سے حقیقت تبدیل ہوسکتی ہے۔ایران اس وقت خطے کی تمام ممالک کے لئے ایک مثالی ملک ہے اور اگر اس خطے میں اسلامی اور انقلابی تحریکوں کا عمل مکمل ہوجائے تو پھر ایران کا محوری کردار امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ناکوں چنے چبوادے گا۔ 

............/169